تیرے سلسلے کچھ اور ہیں – ایک خوبصورت اردو قطعہ از پروفیسر چوہدری ظفر اقبال کھٹانہ۔ مکمل شاعری یہاں پڑھیں۔
پروفیسر چوہدری ظفر اقبال کھٹانہ کا خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا اردو قطعہ "تیرے سلسلے کچھ اور ہیں" پڑھیں۔ محبت، جدائی اور مختلف راستوں کی عکاسی کرتا ایک بہترین شعری نمونہ۔
قطعہ
تیرے سلسلے کچھ اَور ہیں
مِرے مشغلے کچھ اَور ہیں
نہیں ٹھہر سکا ، ہمارا ساتھ کبھی
کہ ہمارے راستے اَور اَور ہیں
پروفیسر چوہدری ظفراقبال کھٹانہ
یہ قطعہ اپنے اختصار کے باوجود گہرے جذبات اور فکری تہہ داری کا حامل ہے۔ پروفیسر چوہدری ظفر اقبال کھٹانہ نے نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں انسانی تعلقات کی ایک بنیادی حقیقت کو بیان کیا ہے۔
یہ محض رومانوی شاعری نہیں بلکہ زندگی کی ایک عملی سچائی کی ترجمانی ہے کہ ہر تعلق ہمیشہ نہیں چلتا۔
یہ قطعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر جدائی ناکامی نہیں ہوتی۔ بعض اوقات زندگی کے راستے الگ ہونا فطری عمل ہے۔ تعلقات کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ انہیں زبردستی نبھانے کے بجائے حقیقت کو قبول کیا جائے۔
یہ ایک پُرسکون، باوقار اور حقیقت پسندانہ قطعہ ہے جس میں درد بھی ہے مگر شکوہ نہیں، جدائی بھی ہے مگر تلخی نہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

تبصرے