شکرانہ خداوندی – ایک خوبصورت اردو حمد از پروفیسر چوہدری ظفر اقبال کھٹانہ، جس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور حج و زیارت پر شکر ادا کیا گیا ہے۔
پروفیسر چوہدری ظفر اقبال کھٹانہ کی خوبصورت حمد "شکرانہ خداوندی" پڑھیں جس میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، حج، مکہ اور مدینہ کی حاضری پر شکر ادا کیا گیا ہے۔
شکرانہ ،خداوندی
اے رِب تعالیٰ، تیری دُنیا میں رہنے کی اجازت کا شکریہ
اے خالقِ دُنیا ، تیرے حضو ر سَرجُھکانے کی اجازت کا شکریہ
تیری نظرِکرم،تیری درگزر،تیری رحمت کا طلب گار ہوں ہر دَم
حَرم پاک میں، سجدہ ِشکر، بجا لانے کی اجازت کا شکریہ
یہ گنہگار و خطاکار،تیرے دربار میں حاضری کے قابل تو نہیں تھا
اپنی عنایت سے ،مقام ابراہیم پے گڑگڑانے کی اجازت کا شکریہ
ہوتی ہے یہ خواہش، ہر مسلم کے دِل میں کہ ، شہر مدینہ چلے
تیرے محبوب کے شہر میں جانے کی اجازت کا شکریہ
آنکھیں ترستی تھیں گنبد خضرا کے دیدار کو کب سے
کُل نبیوں کے سردار کے درپے آنسو بہانے کی اجازت کا شکریہ
قدم رکھ سکتا نہیں عرفات میں، تیری اجازات کے بغیر کوئی
جبلِ رحمت کے دامن میں ہاتھ اُٹھانے کی اجازت کا شکریہ
تیرا مشکور ہے، ممنوں ہے، یہ بندہِ ناچیز اے مالکِ دو جہاں
حجِ بیت اللہ کے لیے حاضر آنے کی اجازت کا شکریہ
پروفیسرچوہدری ظفر اقبال کھٹانہ
یہ ایک نہایت خوبصورت، پُرخلوص اور روحانی کلام ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی عاجزی، شکرگزاری اور محبتِ الٰہی و رسول ﷺ کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ کلام سراسر شکر اور عجز کا حسین امتزاج ہے۔ شاعر نے نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، خاص طور پر حج اور زیارتِ مدینہ جیسی عظیم سعادتوں پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔ ہر شعر میں بندگی، عاجزی اور اپنی کم مائیگی کا اعتراف نمایاں ہے، جو اس کلام کو اور زیادہ مؤثر بنا دیتا ہے۔
“مقامِ ابراہیم پہ گڑگڑانے کی اجازت” اور “عرفات و جبلِ رحمت” کا ذکر روحانی کیفیت کو عروج دیتا ہے۔
“گنبدِ خضرا کے دیدار” کی تڑپ عاشقِ رسول ﷺ کے جذبات کی سچی ترجمانی ہے۔
زبان سادہ، رواں اور عام فہم ہے، جس کی وجہ سے ہر قاری اس سے جُڑ جاتا ہے۔
یہ کلام دراصل ایک دعائیہ نظم بھی ہے اور ایک روحانی سفر کی داستان بھی، جس میں شکرگزاری کے ساتھ ساتھ زیارتِ حرمین کی کیفیت کو خوبصورتی سے سمویا گیا ہے۔



تبصرے